زمینی پیداوار


ایم سرورصدیقی
زمین کی پیداوار میں درخت، پھول، پھل اور میوے نہایت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اور اس تمدنی ترقی کے سلسلے میں ہم کو فیروز شاہ (1309 تا 1388ء) کا نام نہایت نمایاں نظر آتا ہے، شمس سراج عفیف نے تاریخ فیروز شاہی میں لکھا ہے کہ فیروز شاہ کو باغات لگانے کا نہایت ذوق تھا، جن میں مختلف قسم کے انگور پیدا ہوتے تھے اور ایک پیسہ سیر کے حساب سے فروخت ہوتے تھے۔ فیروز شاہ نے شہر حصار فیروزہ کو آباد کیا تو نہایت کثرت سے درخت اور باغات لگوائے، جن میں ہر قسم کے پھول اور پھل ہوتے تھے، شمس سراج عفیف نے بعض پھلوں کے نام بتائے ہیں، سدا پھل، حنبھری، نارنگ، سکندر اول، ان کے علاوہ ہر قسم کے پھول، گنے اور پونڈے تیار ہوتے تھے، جن میں نہایت لطافت پائی جاتی تھی۔ فیروز شاہ کے بعد سلطان محمود بیگڑہ نے گجرات میں نہایت کثرت سے پھل دار درخت مثلا آم، انار، کھرنی، جامن، گولر، بیل اور مہوے لگوائے اور اس کے زمانے میں بعض امرا نے انجیر اور بانس کا درخت بیجا نگر اور دکن سے منگوا کر گجرات میں لگوایا۔ اس کے بعد تیموریوں کا دور شروع ہوا تو انہوں نے پھولوں، پھلوں اور باغات کی ترقی میں اور بھی زیادہ لطافت و نفاست سے کام لیا اور بادشاہ اکبر کے زمانے میں اس میں خاص طور پر ترقی ہوئی، مثلا میووں میں شیرینی اور لطافت پیوند لگانے سے زیادہ ہو جاتی ہے لیکن اکبری دور سے پہلے برصغیر میں پیوند لگانے کا رواج نہ تھا۔ سب سے پہلے اکبر کے زمانے میں محمد قلی افشار نے، جو کشمیر میں داروغہ باغات تھا، کابل سے شاہ آلو منگا کر پیوند لگایا اور پھر عام رواج ہو گیا لیکن اکبر کے زمانے تک آم کی قلم نہیں لگتی تھی۔ شاہ آلو کے علاوہ اکبر کے زمانے میں اور بھی بہت سے میوے ولایت سے برصغیر میں آئے، انناس بھی اسی زمانے میں یورپ سے آیا۔ اکبر کے زمانے میں پستے کا درخت لگایا گیا اور بارآور ہوا، اس کے علاوہ جو پھل اور میوے پیدا ہوتے تھے، ان کی زراعت و تجارت میں ترقی ہوئی۔ اکبری دور سے پہلے گجرات میں خربوزے نہیں ہوتے تھے، سب سے پہلے عبدالرحیم خان خاناں نے آدمی بھیج کر عراق اور خراسان سے تخم منگوائے اور گجرات کے ایک گاوں بلکوارہ میں، جس کی آب و ہوا مناسب تھی، اس کی کاشت کرائی، پہلے سال نہایت عمدہ خربوزے پیدا ہوئے اور دو سال میں اس قدر ترقی ہوئی کہ عراق اور خراسان کے لوگ بھی اس قدر ترقی نہیں کر سکتے تھے۔ آم اگرچہ بنگال، گجرات، مالوہ، خاندیس اور دکن میں بہ کثرت ہوتا تھا لیکن پنجاب میں کم پیدا ہوتا تھا، جب اکبر نے لاہور کو تخت گاہ بنایا تو اس کی پیداوار میں کسی قدر اضافہ ہوا۔ خوشبودار اور زیب و زینت کے درخت ہندوستان میں نہیں ہوتے تھے، اکبر کے زمانے میں صندل، سرو، صنوبر اور چنار کے درخت نہایت کثرت سے باغوں میں لگائے گئے۔ پھول برصغیر میں یوں بھی نہایت کثرت سے ہوتے تھے لیکن تیموریوں کی خوش مذاقی نے اس پر قناعت نہیں کی، بلکہ یورپ اور ایران کے پھول منگوا کر ہندوستان کو ایران کا چمن زار بنا دیا۔ اس کے بعد جہاں گیر کا دور حکومت آیا اور اس نے کشمیر میں پیوند کے ذریعے سے میوہ دار درختوں کی خاص طور پر اصلاح و تربیت کی۔ ایک موقع پر خود تزک میں لکھتا ہے کہ کشمیر کے شاہ آلو باغچہ نورافزا سے ڈیڑھ ہزار اور تمام درختوں سے پانچ سو توڑے گئے، میں نے متصدیان کشمیر کو تاکید کی کہ شاہ آلو کے درخت اکثر باغوں میں پیوند کریں اور اس کو ترقی دیں۔ جہاں گیر کے دور حکومت کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے زمانے میں میووں اور پھلوں کی تجارت میں بے انتہا ترقی ہوئی اور بیرونی ممالک سے اس قدر اور اتنے قسم کے میوے ہندوستان میں آئے، جو اکبر کے زمانے میں بھی نہیں آئے تھے، چنانچہ تزک میں اس نے ان میووں کا متعدد مقامات پر ذکر کیا ہے اور بعض موقعوں پر حسرت ظاہر کی ہے کہ میرے والد کے زمانے میں یہ میوے ہندوستان میں نہیں آئے، حالانکہ وہ میووں کا نہایت ذوق رکھتے تھے، ایک موقع پر لکھتا ہے:ولایت سے سوداگر آئے اور یزد کے انار اور کاریز کے خربوزے، جو خراسان کے خربوزوں میں سب سے بہتر ہوتے ہیں، لائے۔ اگرچہ ہر سال بدخشاں سے خربوزے اورکابل سے انار آتے ہیں لیکن یہ خربوزے اور انار یزد کے انار اور کاریز کے خربوزے سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے، چونکہ میرے والد بزرگوار کو میووں کا نہایت ذوق تھا، اس لیے نہایت افسوس ہوا کہ کاش یہ میوے ان کے زمانے میں ولایت سے ہندوستان میں آتے تاکہ وہ ان سے محظوظ ہوتے۔ دوسرے موقع پر لکھتا ہے:اس منزل میں کاریز سے، جو ہرات کے اطراف میں واقع ہے، بہت سے خربوزے لائے، خان عالم نے بھی پچاس اونٹ بھیجے تھے، خلاصہ یہ کہ اس کثرت سے گزشتہ سالوں میں نہیں لائے تھے، ایک خوان میں حسب ذیل میوے لائے، کاریز کابل اور بدخشان کے خربوزے، سمرقند اور بدخشاں کے انگور، سمرقند، کشمیر، کابل اور جلال آباد کے سیب، انناس جو یورپ کی بندرگاہوں کا میوہ ہے، آگرہ میں اس کا درخت لگایا گیا تھا جو ہر سال آگرہ کے باغات میں جو خالصہ شریفہ سے متعلق ہیں، ہزاروں پھل دیتا ہے اور کولی جو شباہت اور جسامت میں نارنگی سے چھوٹا ہوتا ہے اور اس کی چاشنی مائل بہ شیرینی ہے، میرے والد بزرگوار کو میووں کا نہایت شوق تھا، بالخصوص خربوزہ، انار اور انگور کے ساتھ نہایت ذوق رکھتے تھے، چونکہ ان کے زمانے میںکاریز کے خربوزے جو خربوزے کی اعلی قسم ہے اور یزد کے انار جو دنیا میں مشہور ہیں اور سمرقند کے انگور ہندوستان میں نہیں لاتے تھے، اس لیے جب یہ میوے سامنے آتے ہیں تو نہایت افسوس ہوتا ہے کہ کاش یہ میوے اس زمانے میں آتے تاکہ وہ ان سے لذت اندوز ہوتے۔ جہاں گیر کو درختوں اور پھلوں کی ترقی کے لحاظ سے اس بات کا خاص شوق تھا کہ جو پھل اور درخت غیر معمولی نظر آتے تھے، ان کی پیمائش اور وزن کراتا تھا، چنانچہ تزک میں اس قسم کے تجربہ و تحقیقات کا متعدد موقعوں پر ذکر کیا ہے، ایک موقع پر لکھتا ہے: آج استالف سے ایک شفتالو لائے، اتنا بڑا شفتالو آج تک دیکھا نہیں گیا تھا، میں نے حکم دیا کہ وزن کریں، ساٹھ تولہ کا نکالا۔ دوسرے موقع پر لکھتا ہے:فتح پور کے اطراف سے ایک تربوز لائے کہ اتنا بڑا تربوز اب تک دیکھا نہیں گیا تھا، میں نے حکم دیا کہ وزن کریں، 33 سیر وزن نکالا۔ ایک جگہ لکھتا ہے: دو کوس طے کر لینے کے بعد ایک پرفضا و لطیف جگہ سامنے آئی۔ ایک باغ میں تقریبا سو درخت نظر سے گزرے کہ آم کے اتنے بڑے اور اتنے شاداب درخت کم دیکھے گئے تھے، اسی باغ میں بڑ کا ایک درخت نظر سے گزرا جو انتہا درجے کا بڑا تھا، میں نے حکم دیا کہ اس کے طول عرض اور بلندی کی پیمائش کریں، چنانچہ اس کی بلندی سے شاخ تک 74 گز، اس کے تنا کا دور 44گز اور اس کی چوڑائی 75 1گز نکلی۔ اس قسم کے اور بھی متعدد واقعات تزک جہاں گیری میں مذکور ہیں۔ شاہ جہاں نے بھی اپنے دورِ حکومت میں کشمیر کے پھلوں کو پیوند وغیرہ کے ذریعہ سے بے انتہا ترقی دی۔ اسی زمانے میں جب کہ تیموری سلاطین برصغیر میں پھولوں اور پھلوں میں یہ لطافت پیدا کر رہے تھے، مرتضی نظام شاہ کے دور حکومت میں صلابت خان نے برصغیر کے پائیدار اور کارآمد درختوں کی پیداوار کو بے انتہا ترقی دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں