آہ حکمران


محمد اعظم عظیم اعظم
کیا کروں کہ کہتاہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ، کوئی کچھ بھی کہے ،میرے سچ سے کوئی متفق ہو کہ نہ ہو ،اِس سے مجھے کیا؟ مگرسچ تو یہ ہے کہ اصل میں مملکیت خداداد پاکستان میں سیاسی پارٹیوں اور جماعتوں میں شخصیت پرستی اور سیاست دانوں کی اداروں اور اشخاص کے خلاف بدزبانی کا بڑھتارجحان ہی ملک کی تباہی و بربادی کا بڑا سبب بن رہاہے، ضروری نہیں ہے کہ جس پارٹی کا بانی کسی بھی راستے ،ذرائع یا اندر باہر کی کسی خفیہ طاقت کے اشارے سے کبھی حکمران بنے وہ لالچ اور کرپشن سے بھی پاک ہو، ہماری نصف صدی سے زائد عرصے کے دوران باکثرت یہ مشاہدہ شک میں بدل کر یقین میں تبدیل ہوچکا ہے کہ ہمارے حکمرانوں ،سیاستدانوں اور اِن کے اِدھر ادھر کے چیلے چانٹوں میں کرپشن اور قومی خزانے سے لوٹ مار کا پایا جانے والا عنصر ہی قرضوں کی وجہ بن کر ملکی معیشت ،اقتصادیات اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بنا ہے۔ میرے اِس نقطہ نظر سے بھی کچھ متفق ہوں گے اورلوگوں کی اکثریت یہ ماننے کوکبھی تیار نہیں ہوگی کہ ستر سال سے وطن عزیز پاکستان میں جمہوریت کے نعرے لگا کر وہ لوگ ملک میں جمہوراور جمہوریت کی پاسداری کی باتیں کرتے ہیں۔ آج تک جنہیں جمہور اورجمہوریت کے سمجھ تو کیا؟ جمہوریت کے معنی تک نہیں آتے ہیں،کیوں کہ اِنہیں اِن کے سات سمندر پاربیٹھے آقاو ں نے سکھادیاہے کہ پاکستان میں سِول حکمران جمہوریت کا نعرہ لگائے بغیر اقتدار میں نہیں آسکتے ہیں۔تاہم ہمارے یہاں برسوں سے یہ پریکٹس بن چکی ہے کہ اقتدار میں جو بھی سِول آئے گا وہ جمہوراورجمہوریت کا پرچار تو خوب لہک لہک کرے گا باقی کام وہ (اِس کے سات سمندر پار بیٹھے بیرونِ آقا)دیکھ لیں گے ۔ اِس لئے سِول حکمرانوں کے نزدیک بس جمہوریت یہی ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد جمہوراور جمہوریت کے تمام راستے اور سوراخ عوام کے لئے بند کردیئے جائیں۔ اگر کوئی ایک در، یا سوراخ چھوڑابھی جائے، تواسے حکمران اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لئے ہی کھلا رکھیں۔ جیسا کہ ماضی میں ہوتارہاہے ۔مگرپھر اِسے بھی عوام کی رسائی سے دور رکھاجائے۔یقینا موجودہ حکومت میں جمہوری ثمرات عوام الناس تک ضرور منتقل کئے جائیں گے۔البتہ، اِس میں ضرور کچھ وقت یعنی کہ دوتین سال تولگ سکتے ہیں۔ مگر قوم امید رکھے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں برسوں سے غضب شدہ عوامی حقوق جمہوری ثمرات کی شکل میں اِن کی دہلیز تک لازمی پہنچ پا ئیں گے۔سچ تو یہ ہے کہ ہمارے یہاں بیس سال کے عرصے میں جتنی بھی حکومتیں گزری ہیں۔آج کوئی بھی صاحبِ عقل ودانش یہ بتادے کہ اِس دوران حکمرانوں،سیاستدانوں نے ملک میں حقیقی جمہوریت کے لئے کبھی کوئی بھی درست قدم اٹھایاہو،جو بھی آیا سب نے ہی جمہوریت کے نعرے لگا کرعوامی حقوق پر ڈاکہ تو ضرور ڈالا ہے؛مگر عوام کے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا ہے۔سب نے عوام کو مہنگائی، بھوک و افلاس وتنگدستی کی دلدل میں دھکیلا اوربنیادی سہولیات زندگی سے محروم رکھ کر توانائی گیس اور تیل کے بحرانوں میں جکڑے رکھا ،اِسی راستے قرضوں کے بوجھ تلے عوام کو زندہ درگور کیا اور اپنے لئے کرپشن کے دروازے کھولے ۔ہرزمانے کے ہر معاشرے اور ہر تہذیب کے اہلِ علم و دانش کا کہنا ہے کہ کرپشن کی دلدل میں دھنسی قوم کا کوئی مستقبل نہیں۔اِن دِنوں پاکستانی قوم بھی حکمرانوں اور سیاستدانوں کی لوٹ مار اور کرپشن کی دلدل میں دھنس کر اوپر سے قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہوئی۔حتی کہ آج ماضی کے کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے قوم ماتھے کے پر نیک نامی کا تمغہ ہونے کے بجائے کرپشن کی کلک کا ٹیکہ لگادکھائی دیتاہے۔یقیناآج ہمیں ایک بھی کوئی ایسا نہیں ملے گا جو کھلے دل و دماغ سے اِس کی نشاندہی کردے کہ قومی خزانے کو لوٹ کھانے والے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی حکومتیں جمہوری ثمرات عوام الناس تک پہنچانے میں کبھی مخلص رہی ہیں،اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ سچ و حق کی عمرلمبی ہوتی ہے۔ مگر منافقین اور جھوٹوں کا ٹولہ اِسے کم کرنے کے لئے ہٹ دھرمی کی تمام حدیں پار کرجاتا ہے؛ تب ہی یہ منہ کی کھا کر رہ جاتاہے۔آج بدقسمتی سے سرزمینِ پاکستان میں بھی حق وسچ اور سیاسی کرپشن زدہ ٹولوں کے درمیان گھمسان کا رن جاری ہے۔دیکھ لینا جن کا چہر ہ کرپشن سے کالا ہوچکاہے ہار اِن ہی کی ہوگی۔موجودہ حکومت ماضی کے کرپٹ حکمرانوں، سیاستدانوں اور چیلے چانٹوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لئے تیاریاں کرکے میدانِ عمل میں اتر چکی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت عوام سے کئے ہوئے وعدوں اور دعووں پر تیزی سے عملی جامہ پہنا رہی ہے ۔حکومت کرپشن ، لوٹ مار اور بے نامی جائیدادوں کی صاف و شفاف طریقے کے تحت تحقیقات کے بعداصل مالکان تک رسائی کے بعد قانون کے مطابق کارروائیاں شروع کرچکی ہیں ۔مملکت پاکستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور کرپٹ عناصر کو لگام دینے اور آئین و قانون کے مطابق قومی خزانہ لوٹ کھانے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کرنے کا یہی اچھا وقت ہے .اگر یہ وقت کرپٹ عناصر اقامہ ,پانامہ اور جعلی بینک کھاتوں اور بے نام جائیدادیں بنانے والوں کے چیخنے چلانے اور ملک میں انارکی پھیلا والوں کی وجہ سے گزر گیا.تو پھر کبھی اِس سے اچھا وقت پلٹ کر نہیں آئے گا۔اِس لئے ضروری ہے کہ جب پلٹ پلٹ کر باریاں لگانے والے کرپٹ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے گرد احتساب کا شکنجہ سخت ہورہاہے؛ اور کرپٹ عناصر کاملک سے بھاگنے کا موقع ختم ہوتاجارہاہے۔ تو پھر ایک لوہار کی طرح ایسا ضرب لگایاجائے کہ چوروں کی چیخیں نکلے بغیراِدھر اِن کی جان نکلے اور ادھراِن کی گرفت سے لوٹی ہوئی ساری قومی دولت نکل کر ملک میں آجائے۔اب پاکستانی قوم حوصلہ رکھے ۔اِس کا یقین کرلے کہ ملک سے مہنگائی اسی وقت ختم ہوسکتی ہے جب سرزمینِ پاکستان سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کا خاتمہ کردیاجائے؛ تواِس کے لئے پوری پاکستانی قوم کو متحد ہوکر حکومت کے شانہ بشانہ کھڑاہوناہوگا۔ تب تو حکومت ملک سے مہنگائی اور کرپشن کے ناسورکو جڑ سے ختم کرسکتی ہے؛ ورنہ ؟اگر ابھی پاکستانی قوم اپنی آنکھوں اور عقل پر سیاسی جماعتوں اور پارٹیوں کے بانیوں اور سربراہاں کی شخصیت پرستی کی پٹی چڑھائے؛ قومی لٹیروں اور پانامہ و اقامہ اور جعلی بینک اکاونٹس اور بے نامی جائیدادوں کا گھناو نا چکررچانے والوں کی چکنی چپڑی باتوں اور قومی لٹیروں کے جادوئی اثر میں ہی پڑی رہے گی۔ تو اِس کا مقدر اِس کا حق مار کر قومی لٹیروں اور قومی خزانہ لوٹ کھانے والوں کے ہاتھوں ہی میں قیامت تک کھلونا بنارہے گا ۔اور یہ ہمیشہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہے گی اور پاکستانی قوم کی نسلیں بھی صدیوں تک ایڑیاں رگڑ رگڑ، بلک بلک کر اور سسک سسک کر مرتی رہیں گیں،اپنے پرکھوں کو کوستی رہے گی کہ جنہوںنے اپنی زندگیاں توشخصیت پرستی میں گزاری اوراِسے بھی بربادکیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں