جج کی وڈیو کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، شہزاد اکبر

اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ جج کی مبینہ وڈیو کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے کہا کہ جو آج بہن بھائی بن رہے ہیں وہ 90 کی دہائی میں ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالتے رہے، ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں اس کے پیچھے ان ہی کی کارستانیاں ہیں، ماضی کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے تک آگے نہیں جا سکتے۔ ماضی کو سامنے رکھ کر سمجھنا چاہیے کس قسم کی سازشیں کی جارہی ہیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ عدالت میں کوئی جواب نہیں دیا گیا اور اب بےگناہی کے نعرے لگائے جارہے ہیں، مجرم کو پکڑنا اور انہیں سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، ملک کو لوٹنے والے چوروں کا احتساب ہو گا، آنے والے دنوں میں ان کی بڑی بڑی چوریاں سامنے لے کر آئیں گے، کک بیکس اور کمیشن کے ثبوت بھی لے کر آئیں گے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کہتے تھے کہ میں اس شخص پر اعتباد نہیں کرتا جسے خریدا نہ ہو، چھانگا مانگا کی سیاست نے سیاسی نظام کو آلودہ کیا، ہارس ٹریڈنگ شروع ہوئی اور سیاست سے نظریہ نکل کر پیسہ آگیا، سپریم کورٹ پر حملہ ہوا، جسٹس قیوم سے فیصلے کون لکھواتا تھا؟، جعلی اکاؤنٹس کے معاملے پرسپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی، مافیا اس لیے کہا گیا کہ انہوں نے پورے نظام کو جکڑا ہوا ہے، 2 دن پہلے شہباز شریف تفتیش کے دوران نیب افسروں کو دھمکیاں دے کر گئے ہیں، بلاول بھٹو زرداری اور ایان علی ایک ہی اکاؤنٹ استعمال کرتے رہے۔

احتساب عدالت کے جج کی مبینہ وڈیو سے متعلق شہزاد اکبر نے کہا کہ جج کی مبینہ وڈیو کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، جج کے خلاف ویڈیو اس نے پیش کی جو جعلسازی میں سزایافتہ ہے، سپریم کورٹ نوٹس لے کر ویڈیو معاملے کی خود تفتیش کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں