فرانسیسی وزیر کا ماسک پہن کر دھوکے باز 9 کروڑ ڈالر لے اڑے

پیرس: کسی کی شناخت کی چوری (آئیڈینٹٹی تھیفٹ) اور اس سے رقم اینٹھنے کا سب سے بڑا اور دلچسپ اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ جراٰت مند مجرموں نے فرانس کی مشہور سیاسی شخصیت اور وزیر ژان لیو لے دریون کا انتہائی حقیقی سلیکون ماسک بنایا اور اسے ایک شخص کو پہنایا جس نے خود وزیر بن کر مختلف لوگوں سے رابطے کئے اور ان سے رقم لوٹ لی گئی۔

اس کے لیے انتہائی چالاک دھوکے بازوں نے خود کو فرانس کے سابقہ وزیرِ دفاع اور موجودہ وزیرِ خارجہ اور یورپ ژان لیو لے دریون کے انتہائی قریبی ساتھی بتایا اور ان سے کہا کہ وزیر خود آپ سے ویڈیو پر بات بھی کریں گے۔ جعل سازوں نے فرانسیسی، یورپی اہم شخصیات، سیاستدانوں، تاجروں، خیراتی اداروں اور دیگر اہم شخصیات کو فوائد کا لالچ دے کر ان سے رقم جمع کی۔

اس ضمن میں ایک اور مشہور ڈرامہ رچایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ وغیرہ میں کئی فرانسیسی شہری مسلمان شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں اور انہیں چھڑانے کے لیے عطیات مانگے گئے اور اس طرح 9 کروڑ ڈالر کی رقم جمع ہوئی جو پاکستانی روپوں میں 15 ارب روپے کے برابر ہے۔ زیادہ تر بینک اکاؤنٹس ہانگ کانگ کے استعمال کئے گئے۔
جیسے ہی نوسربازوں کی باتوں میں آکر کوئی شخص مزید پیشرفت چاہتا تو وہ جعلی وزیر سے اس کی ویڈیو چیٹ کروادیتے۔

جس کمرے میں وزیر کا نقاب اوڑھے شخص بیٹھا تھا اس کی تزئین عین کسی سرکاری دفتر کی طرح کی گئی تھی جس میں قیمتی فرنیچر، صدر کی تصویر اور فرانس کا پرچم بطورِ خاص نمایاں کیا گیا تھا۔ تاہم جعلی وزیر کو دور بٹھایا گیا تھا اور کمرے کی روشنیاں بھی مدھم رکھی گئی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں